مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے میڈیا اور سوشل میڈیا کارکنوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کی ہدایات پر لبیک کہتے ہوئے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں جہادِ تبیین، قومی اتحاد کے استحکام اور دشمن کی ترکیبی جنگ کا مقابلہ کرنے میں میڈیا کے کردار پر زور دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہفتۂ حکومت کے موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی کا امید افزا پیغام میڈیا کے کارکنوں کے لیے محض ایک مناسبتی پیغام نہیں بلکہ دشمنوں کے ساتھ جاری ہائبرڈ اور وجودی جنگ کے دوران ایک واضح رہنما نقشہ ہے۔
میڈیا اور فکری شعبے سے وابستہ افراد نے قوم کے خادموں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے حکومت کے شہداء، بالخصوص شہید رجائی، شہید باہنر اور شہید رئیسی کی قربانیوں کو یاد کیا اور اعلان کیا کہ وہ رہبر معظم انقلاب کی ہدایات کو اپنی جدوجہد کا بنیادی محور بناتے ہوئے اس حساس مرحلے میں فکری صفوں کو منظم کرنے، جہادِ تبیین کو مضبوط بنانے اور قومی اتحاد کی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب مغربی میڈیا مایوسی پھیلانے، قومی کامیابیوں کو نظر انداز کرنے اور عوامی حوصلے کو کمزور کرنے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہا ہے، میڈیا کی پہلی ذمہ داری ملک کی ترقی، کامیابیوں اور قومی وقار کو سچائی کے ساتھ پیش کرنا ہے۔
میڈیا کارکنوں نے اس بات پر زور دیا کہ امور کی اصلاح اور مسائل کے حل کے لیے منصفانہ، ذمہ دارانہ اور علمی تنقید ضروری ہے، تاہم اسے ایران کو کمزور دکھانے اور منفی پروپیگنڈے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پلیٹ فارمز کو ناکامیوں کی بازگشت بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بلکہ وہ ملک کے مسائل کے منصفانہ نگہبان اور روشن و امید افزا مستقبل کے راوی کا کردار ادا کریں گے۔
اعلامیے میں قومی سرمایۂ اجتماعی کے تحفظ اور قومی رشتوں کے استحکام کو ناقابل سمجھوتہ اصول قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ فرضی تقسیم اور اختلاف پیدا کرنے والی الزام تراشیاں دشمن کے فکری مراکز کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہیں۔
میڈیا کارکنوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے تمام ذرائع ابلاغی مواد، تجزیوں اور بیانیوں میں سماجی اتحاد کا پہلو شامل ہونا چاہیے تاکہ عوام کے دلوں کو ولایت فقیہ کی رہنمائی میں متحد رکھا جا سکے اور قومی صفوں میں کسی بھی قسم کی تقسیم کو روکا جا سکے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا برادری خود کو معیشتی استحکام، ملکی پیداوار کی حمایت اور عوام کے معاشی مسائل کے حل میں معاونت کے لیے بھی ذمہ دار سمجھتی ہے۔
اس کے علاوہ ثقافت، تعلیم و تربیت اور خاندانی ادارے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ میڈیا کو معاشرے کے تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے والے طبقات، جن میں اساتذہ، تعلیمی ماہرین، سیکیورٹی اہلکار، طبی عملہ اور بالخصوص ایران اسلامی کی شناخت بنانے والی خواتین اور ماؤں شامل ہیں، کی آواز بننا چاہیے۔
اعلامیے کے اختتام پر میڈیا کارکنوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور قلم کو خود اعتمادی کے فروغ، قومی اقتدار کی عکاسی اور ایک مزید مضبوط ایران کے روشن راستے پر گامزن کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔
آپ کا تبصرہ